Published On: Mon, Jul 4th, 2011

فورسزکوخصوصی اختیارات دینے پرغور

Share This
Tags
صدر آصف علی زرداری نے دہشت گردی سے نمٹنے کے سیکورٹی اداروں کو خصوصی اختیارات دینے کے لیے آرڈیننس کے مسودے پر غور شرع کردیا،مشتبہ افراد سی4 ماہ تک تفتیش کی جاسکے گی۔ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری ایک دہشت گردی کے خلاف ایک نیا آرڈیننس جاری کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے تحت بااختیار اتھارٹی قائم ہوگی۔قبائلی علاقوں میں کسی بھی فوجی آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی گھر کی تلاشی لے سکیں گے۔مشتبہ شدت پسندوں، دہشت گردوں، ان کے حامیوں اور پناہ دینے والوں کو اٹھا کر 4 ماہ کے لیے مختلف جگہوں پر تفتیش کی جاسکے گی۔الزامات ثابت ہونے پر انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت عدالتیں موت کی سزا سناسکیں گی۔اس ما نٹرنگ اتھارٹی کی طرف سے عدالتوں کو بھیجے گئے ثبوتوں کو حتمی سمجھا جائے گا۔ تفتیش کر نے والے کسی بھی سیکورٹی اہلکار یا افسر کا دہشت گرد کے خلاف عدالت میں بیان قبول کیا جائے گا۔عدالتوں میں فوجی افسر بھی پیش ہو کر ان دہشت گردوں کے خلاف گواہی دے سکیں گے تاکہ ان کو سزائیں دلوائی جاسکیں۔اس نئے قانو ن کا اطلاق یکم فروری 2008ء سے ہو گا جسے فوجی قیادت سے باقاعدہ مشاورت کے کر نے کے بعد جاری کیا جا ئے گا۔اس نئے ڈرافٹ قانون کے تحت کسی بھی متلعقہ فوجی یا سویلین افسران کے خلاف عدالتوں میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی اور ان تمام لوگوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔دستایزوات سے انکشاف ہوتا ہے کہ اس قانون کے مسودے کو خبیر پختونخوا کے گورنر بیرسٹر سید مسعود کوثر نے صدر کو بھیجا ہے جو اس وقت زیر غور ہے ۔

Leave a comment