پالیسی

Posted By Fact On Wednesday, April 20th, 2011 With 0 Comments
فیکٹ کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ یہ کس کا ترجمان ہے؟ اسکی پالیسی کیاہے ؟اگرچہ 2003سے اب تک کے شمارے ان سوالوں کا جواب دیتے ہیں لیکن پھر بھی ہم ان سوالوں کا جواب ہم اپنے قارئین اور ارباب اختیار کی خدمت میں پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یہ باتیں دراصل ہمارے اور آپ کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے کا نقطہ آغاز ثابت ہوں گی۔
یہ بات تو واضح ہے کہ رائے عامہ کو سچائی اور حقائق سے باخبر کرنا اور اُنہیں معلومات کی فراہمی کوئی منافع بخش کاروبار نہیں بلکہ یہ ایک سماجی اور فکری جدوجہد ہے۔ ایک تحریک ہے۔ ایک مشن ہے۔ ’’فیکٹ‘‘ کے پیچھے نوجوان صحافیوں کی ایک ٹیم ہے۔ یہ عوام کا ترجمان ہے۔ ہم وہی لکھیں گے جسے سچ سمجھیں گے۔ بقول شاعر ؂
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پر گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ہم دعویٰ نہیں کرتے لیکن یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہمارا نصب العین مثبت صحافت کے چراغ جلانا ہے جن کی روشنی آنیوالی نسل کو بھی حرارت پہنچاتی رہے ۔ انشاء اللہ! آپ ہمیں اپنے دل کی دھڑکنوں کے قریب پائیں گے۔ ان صفحات میں ہم ظالم اور طاقتور سے ڈرنے اور دبنے کی بجائے صرف سچ لکھیں گے۔
صرف اور صرف سچ ! بقول حبیب جالب
لاکھ پڑے دل کو سمجھانا
سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا مت ڈر جانا
سچ ہی لکھتے جانا
پل دو پل کے عیش کی خاطر
کیا جھکنا کیا ڈرنا
آخر سب کو ہے مر جانا
سچ ہی لکھتے جانا
پیارے قارئین!
ہماری کوشش ہو ہے کہ جو کچھ لکھیں سچائی ، ایمانداری اور ذمہ داری کیساتھ لکھیں۔ کیونکہ ایک دن ہمیں بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوناہے۔ اگرچہ ہم اپنی کشتی اللہ کا نام لیکر سمندر میں اتار چکے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہاں کشتیاں ذرا کم ہی پار لگتی ہیں۔ ظلم، ناانصافی کے شوریدہ سر دریا اور منہ زور لہروں کے سامنے ہم اپنی ذات بے ثبات کی ناؤ لیکر جذبوں کی پتوار کے سہارے ڈگمگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ اس راہ میں پریشانیاں اور رکاوٹیں ہیں لیکن ہم اللہ سے مدد مانگ رہے ہیں۔آپ بھی ہم پر اپنی شفقتوں، محبتوں اور نوازشوں کے دروازے کھلے رکھتے ہوئے مقصد میں کامیابی کے لئے ہمارے حق میں دعا کیجئے ۔ ہمیں آپ کی بھرپور دعاؤں اور مشوروں کی ضرورت ہے۔ معاشرے کی اصلاح، عوامی شعور کی بیداری، ظلم ،ناانصافی اور برائیوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے ’’فیکٹ‘‘ ہمارا پہلا مورچہ ہے۔ ابھی ہم اور مورچے بنائیں گے اور یہ جنگ لڑتے رہیں گے۔ ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے۔ صرف آپ نے یہ کرنا ہے کہ حق اور سچ کے سامنے ڈٹ کر ظالم سے ڈرنے اور دبنے کی بجائے اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں دینا ہے۔
اور پیارے قارئین! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں۔ کیا آپ ہمارا ساتھ دینگے؟

Leave a comment