Published On: Fri, Aug 29th, 2014

ٹی بریک

Share This
Tags
 پاکستان کا قانون
Tea-Break صحافیوں کی ایک ٹیم جیل کا دورہ کر رہی تھی۔ ایک کوٹھڑی میں ایک ایسے صاحب بھی بند تھے، جو شکل سے خاصی شریف اور مسکین دکھائی دے رہے تھے۔ ایک صحافی نے ان کے بارے میں جیلر سے پوچھا۔’’ان صاحب نے کیا جرم کیا ہے؟‘‘
’’انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔‘‘ جیلر نے بتایا۔‘‘ دراصل انہوں نے ایک مشہور دہشت گرد کو ایک قتل کرتے دیکھا تھا ، یہ اس قتل کے اکلوتے چشم دید گواہ ہیں۔ انہیں حفاظت کے خیال سے جیل میں ر کھا گیا ہے۔‘‘
’’اور وہ دہشت گرد کہاں ہے؟‘‘ دوسرے صحافی نے سوال کیا۔
’’وہ ضمانت پر رہا ہو چکا ہے۔‘‘ جیلر نے اطمینان سے بتایا۔
***
نصیبو لعل کو گالیاں
بات ہو رہی تھی فحاشی کی اور ایک نوعمر لڑکا بہت شدت سے وینا ملک اور نصیبو لعل کو گالیاں بک رہا تھا۔
لڑکا: نصیبو لعل نے بیڑہ غرق کر دیا ہے 133نہ کوئی حیا نہ شرم133 اس کے گانے تو میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا ، ماں بہن تو دور کی بات 133اس کی ماں کی 133.
لالاجی: ایک منٹ بچے133ایک منٹ133 یہ جو گالی تم بکنے جا رہے ہو یہ تم اپنی ماں بہن کے پاس بیٹھ کر دے سکتے ہو؟
لڑکا: (جھینپ کر ) نہیں
لالاجی: دیکھو ابھی تم بچے ہو 133اپنی توانائیاں لکھنے پڑھنے، سوچنے سمجھنے اور سیکھنے میں لگاؤ133 یہ گالی گلوچ سے کیا حاصل
لڑکا: گالی گلوچ 133. میرا بس نہیں چلتا ورنہ میں اس کی 133.
لالاجی: بس بس 133 اچھا چلو مجھے یہ بتاؤ کہ نصیبو لعل کو یہ گانے کون لکھ کے دیتا ہے ؟؟؟
لڑکا: مجھے کیا پتہ133.
لالاجی: تو پتہ کرو نا133 ویسے کوئی نہ کوئی مرد ہی لکھ کر دیتا ہوگا ناnaseebo133
لڑکا: ہاں جی133 شاید خواجہ پرویز۔
لالاجی: اور دھنیں کون بناتا ہے؟
لڑکا: وہ بھی مر دہی بناتا ہے133 کچھ تو طافو کی بنائی ہوئی دھنیں ہیں۔
لالاجی: اور ان گانوں کی جو ویڈیوز بنتی ہیں وہ کون تیار کرتا ہے133کیمرہ مین کون ہوتا ہے، ڈائریکٹر کون ہوتا ہے، پروڈیوسر کون ہوتا ہے
لڑکا: سارے مرد ہی ہوتے ہیں جی، ہمارے ملک میں یہ کام عورتیں نہیں کرسکتی
لالاجی: عورتیں کر تو سکتی ہیں اور ہمارے ملک میں بھی کرتی ہیں مگر جن گانوں پر تمہیں شدید اعتراض ہے ان کے ویڈیوز مرد ہی بناتے ہیں
لڑکا: جی ایسا ہی ہے 133ان کے نام لکھے ہوتے ہیں ویڈیوز میں 133 سب کے ناموں کے ساتھ حاجی ضرور لکھا ہوتا ہے
لالاجی: تو پھر تمہاری ساری گالیاں نصیبو لعل کے لئے کیوں ہیں133؟ ان سارے مردوں پر تمہیں اتنا غصہ کیوں نہیں آتا؟ ان سارے مردوں کے تو تم نام بھی نہیں جانتے ہوگ شکلیں تو دور کی بات
لڑکا: (طویل خاموشی )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
***
ایسی خبریں کون سننا چاہتا ہے۔
پاکستان کے پچاس جے کے ایف تھنڈر فلسطینی مسلمانوں کی مدد کیلئے شام کی سرحد پر پہنچ گئے۔
گوادر اور کراچی میں غوری اور شاہین میزائل نصب، اسرائیل نشانے پر آگیا۔
امریکی اور یورپی دباؤ مستردپاکستانی فورسز نے فلسطین کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا۔
عرب ممالک اور اسلامی دنیا میں خوشی کی لہر، پاکستان کو دعائیں
یقینی طور پر ایسی خبریں صرف خواب میں ہی دیکھی جا سکتی ہیں۔
***
جوتوں کے لائق قوم
ایک نیک دل بادشاہ عوام سے تنگ آ گیا تھا اور ایک دن اپنی سلطنت کو چھوڑ کر جانے لگا، وزیر سے بولا تم جانو اوریہ عوام میں جا رہا ہوں۔۔۔.
بادشاہ کے ساتھ اس سلطنت میں جھاڑ پونچھ کرنے والا ایک خاکروب بھی ساتھ ہولیا۔
بادشاہ خاکروب سے بولا میں تو پتا نہیں کہاں کہاں دھکے کھاؤں گا تم کیوں میرے ساتھ ہو لئے ہو؟
\”خاکروب بولا: بادشاہ سلامت ! آپ سلطنت کے ما لک تھے تو خدمت کی آگے بھی جب تک سانس رہی خدمت کروں گا…\”
الغرض دونوں چلتے چلتے ایک دوسرے ملک پہنچے جہاں کا بادشاہ وفات پا چکا تھا اور نئے بادشاہ کا چناؤ ہونا تھا جس کا طریقہ کا یہ تھا کہ ملک کی ساری عوام ایک بہت بڑے گراؤنڈ میں جمع ہو جاتی اور ایک پرندہ اڑا دیا جاتا…
\”یہ پرندہ جس کے سر پر بیٹھ جاتا وہی بادشاہ بن جاتا تھا\”
بادشاہ نے خاکروب سے کہا: \”چلو ہم بھی یہ تماشہ دیکھتے ہیں کہ کون بادشاہ بنتا ہے۔‘‘
الغرض وہ دونوں بھی مجمع میں شامل ہوگئے،پرندہ اڑایا گیا، گراؤنڈ کا چکر لگانے کے بعد پرندہ اس خاکروب کے سر پر آ بیٹھا۔اس ملک کی عوام اور وزراء نے خاکروب کے سر پر بادشاہت کا تاج رکھ دیا۔خاکروب جس بادشاہ کے ساتھ pak_mapآیا تھااس سے بولا بادشاہ سلامت آپ بھی میرے ساتھ سکون سے محل میں رہیں۔
بادشاہ بولا نہیں بادشاہت والی زندگی سے میں اکتا چکا ہوں بس میں محل سے باہر ایک جھونپڑے میں رہ لوں گا،تو خاکروب بولا ٹھیک ہے دن میں بادشاہت کروں گا اور رات کو آپ کے ساتھ رہوں گا۔
خاکروب کی بادشاہت کا پہلا دن تھا،دربار لگا ہوا تھا،اتنے میں ایک فریادی آیا اور کہا :\”فلاں بندے نے میری چوری کی…\”
خاکروب بادشاہ نے کہا:فورا\” چوری کرنے والے کو حاضر کیا جائے ، جب مطلوبہ بندہ آیا تو خاکروب بادشاہ نے حکم دیاکہ چور اور جس کی چوری ہوئی ہے دونوں کو 20,20 کوڑے مارے جائیں۔۔۔
\”سب حیران ہوئے کے یہ سب کیا ہو رہا ہے لیکن بادشاہ کا حکم تھا۔‘‘
تھوڑی دیر بعد ایک اور فریادی آیا اور بولا فلاں شخص نے مجھے مارا ہے تو خاکروب بادشاہ نے پھر وہی حکم دیا کہ ظالم اور مظلوم دونوں کو 20,20 کوڑے مارے جائیں۔۔۔الغرض دن میں جتنی فریادیں آئی اس نے ظالم اور مظلوم دونوں کو کوڑے مارنے جائیں ۔۔۔
رات کو جب وہ خاکروب بادشاہ کی جھونپڑی میں پہنچا تو بادشاہ نے کہا:\”او بھائی یہ سب کیا تماشہ تھا تم نے سب کو پٹوا دیا ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ بہت ظالم بادشاہ ہے۔‘‘
تو وہ خاکروب بولا:’’عالی جاہ اگر اس قوم کو ایک نیک اور اچھے بادشاہ کی ضرورت ہوتی تو وہ پرندہ میرے سر پر بیٹھنے کی بجائے آپ کے سر پے بیٹھتا۔‘‘
یہ جیسی قوم ہے اسکو ویسا ہی حکمران ملا ہے !کچھ قومیں واقعی جوتوں کے قابل ہوتی ہیں!!!
سمجھ تو گئے ہونگے۔۔۔۔۔۔
***

Leave a comment