Published On: Mon, Jul 13th, 2015

سعودی جیل میں فائیواسٹار ہوٹل کی سہولتیں

Share This
Tags
دنیا کے تمام ممالک میں مجرموں کو مختلف جرائم کی پاداش میں قید کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ کسی نہ کسی غیرمعمولی نوعیت کے جرم کے مرتکب ہوئے ہوتے ہیں تب ہی انہیں زندان میں ڈالا جاتا ہے اور جس قیدی نے جس قسم کا جرم کیا ہوتا ہے ویسا ہی جیل انتظامیہ کا رویہ بھی اس مجرم کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ایسے قیدیوں کو جیل میں رہائش اور دیگر سہولیات بھی اسی نوعیت کی مہیا کی جاتی ہیں۔ جب ایسے مجرموں کے اہل خاندان سے ملاقات کے لیے آتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی جیل انتظامیہ کا غیرمناسب رویہ مجرم کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کے لیے بھی تکلیف کا موجب ہوتا ہے تاہم مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کے برعکس نظر آتا ہے وہاں نہ صرف مجرموں کے ساتھ ان کی اصلاح کے لیے مناسب رویہ روا رکھا جاتاہے بلکہ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ بھی حسن سلوک سے برتائو کیا جاتا ہے۔
Prison-luxe-terroriste-640x434
Prison-luxe-terroriste-salle-a-manger-640x432سعودی عرب کے شہر الخائر کے جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والے خاندانوں بالخصوص ان کے ساتھ آنے والی خواتین کی میزبانی کے لیے پہلی مرتبہ خواتین اسٹاف کا تقرر کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والی خاتون رشتہ داروں کی خدمت کے لیے پچیس رکنی خواتین کی ٹیم کو مامور کیا گیا ہے۔ اس ضن میں سب سے تعجب خیز اور حیران کن بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں پہلی بار کسی جیل میں ایک فائیواسٹار ہوٹل کی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس کی منظوری سے الحائر جیل میں ایک فیملی ہائوس تعمیر کیا گیا ہے۔ جس میں کوئی بھی خاندان اپنے کسی بھی قیدی سے ملاقات کے لیے 24گھنٹے سے تین دن تک قیام کرسکتا ہے۔ اس سہولت سے وہ خواتین فائدہ اٹھائیں گی جن کے شوہر کسی جرم کی پاداش میں طویل قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اس طرح قیدیوں کو بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل سکے گا۔ جیل کے فیملی ہائوس میں قیام کے دوران خواتین میزبان عملہ ملاقاتیوں کو تین اوقات کھانا دینے کے علاوہ انہیں مشروبات پیش کرنے، صٹائی، کپڑوں پر استری اور بچوں کی کھیل کود میں مدد جیسی خدمات انجام دے گا۔ تربیت یافتہ خواتین اسکواڈ کی خدمت کے باوجود اگر کسی ملاقاتی کو شکایت ہو تو وہ متعلقہ حکام کو اس کے بارے میں آگاہ کرسکتا ہے اور جیل کی سروس کو بہتر بنانے کے لیے مفید مشورے بھی دے سکتا ہے۔
Prison-luxe-terroriste-salle-de-sport-640x429الخائر جیل میں خواتین پر شمتمل عملے کی تعیناتی سے قبل پیشہ ورانہ بنیادی تربیت دی گئی ہے اور انہیں جیل کے ہوٹل اور فیملی ہائوس میں آنے والے ملاقاتیوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرنے اور ملاقاتیوں سے حسن سلوک کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔ انتظایمہ کے اس بہترین رویہ کی وجہ سے جیل کے قیدی اور ان کے عزیز و اقارب نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کہیں سے بھی یہ تصور نہیں کرتے کہ ان سے وابستہ فرد کسی جرم سے کے ارتکاب کی وجہ سے جیل میں قید ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے گھر میں پرتعیش زندگی بسر کررہا ہے۔ سزایافتہ لوگوں کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ معمولی نوعیت کے مجرم قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔

ریاض/رپورٹ: محمد عرفان

Leave a comment

  • shylabark on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • shylabark on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • randisl3 on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • jenaber on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • billywelsh on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات