Published On: Thu, Aug 18th, 2011

فلمی لوگوں کی حقیقی محبتیں، کچھ ادھوری اور کچھ مکمل

Share This
Tags


محبت کس سے ہوتی ہے ، کیوں ہوتی ہے ، کب اور کہاں ہوتی ہے یہ کوئی نہیں جانتا، اس کا ایک ہی چلن ہے کہ بس ہوجاتی ہے تاریخ کے دھارے گواہ ہیں کہ یہ موضوع کبھی فلاپ نہیں ہوا۔۔۔بلکہ ہر دور میں کامیاب رہا ہے

وسیم اے صدیقی | کراچی
دلیپ کمار ایک فلمی لیجنڈ ہی نہیں بہت اچھے مقرر بھی ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے مائیک پر کہا تھا کہ محبت کا کوئی خاص روپ ، کوئی خاص نام ، مذہب ، دین یا قاعدہ و ضابطہ نہیں ہوتا۔ محبت کس سے ہوتی ہے ، کیوں ہوتی ہے ، کب اور کہاں ہوتی ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔اس کا ایک ہی چلن ہے۔۔۔کہ بس ہوجاتی ہے۔
بالی ووڈ انڈسٹری نے جس روز سے جنم لیا ہے غالباً اس دور سے آج تک اس موضوع پر فلمیں بن رہی ہیں۔ تاریخ کے دھارے گواہ ہیں کہ یہ موضوع کبھی فلاپ نہیں ہوا۔۔۔بلکہ ہر دور میں کامیاب رہا ہے۔ان فلموں میں جتنے بھی کام کرنے والے لوگ ہیں وہ بھی آپس میں محبتیں کرتے رہے ہیں۔ کچھ کی آن اسکرین محبتوں کے ایسے چرچے ہوئے کہ وہ آف اسکرین بھی ایک دوسرے سے محبت کربیٹھے۔ ہاں یہ بات دیگر ہے کہ کچھ محبتوں میں اسکینڈلز کی آمیزیش زیادہ رہی۔ لیکن اس کے باوجود ان کی محبتوں کے چرچے آج بھی دوہرائے جاتے ہیں۔
امیتابھ بچن اور ریکھا
ان محبت کرنے والوں میں ایک نام امیتابھ بچن اور ریکھا کا بھی ہے۔ ان دونوں آرٹسٹوں نے سلور اسکرین پر عرصے تک اپنا جادو جگائے رکھا۔ اس دور میں انہیں کچھ فلمیں بھی ایسی ملیں کہ دونوں کے عشق کو لوگ فلموں کے پردے پر دیکھ کر حقیقت کا گمان کرتے تھے حالانکہ امیتابھ بچن 1973ء میں جیا بہادر ی کے ساتھ اگنی کے گرد پھیرے لے چکے تھے مگر 1981ء میں جب یش چوپڑا کی فلم “سلسلہ “آئی تو لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ حقیقی “لو ٹرائی اینگل “کی پکچرائزیشن ہے کیوں کہ فلم کی کاسٹ میں ان ہی تینوں کا نام نمایاں تھا۔
دلیپ کمار اور مدھوبالا
کے آصف کے ڈائریکشن میں بنی فلم” مغل اعظم “میں دلیپ کمار اور مدھو بالا نے محبت کی امر داستان کچھ اس انداز سے رقم کی کہ پردہ سیمیں کے ساتھ ساتھ حقیقت کی دنیا میں بھی دونوں آٹھ سال تک محبت کے گیت گاتے رہے۔ مگر مدھو بالا کے والد عطااللہ کو دلیپ کمار پسند نہیں تھے۔انہوں نے دونوں کی راہ میں اسی طرح دیواریں کھڑی کردیں جس طرح” مغل اعظم “میں شہنشاہ اکبر نے سلیم اور انارکلی کی راہ میں دیوار اٹھوادی تھی۔ دونوں کی محبت کا انجام یہ ہوا کہ مدھوبالا دلیپ کو تہہ دل سے چاہنے کے باوجود نہ اپنا سکیں اور جب والد نے ان کی شادی اپنی پسند سے کرنا چاہی تو انہوں نے والد کے فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے غیر متوقع طور پراور بہت اچانک کشورکمار سے شادی کرلی حالانکہ کشور کمار کسی طرح بھی ان کے ہم پلہ نہ تھے۔کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ یہ ان کا خود سے انتقام کا ایک طریقہ تھا۔
راج کپور اور نرگس
راج کپور اور نرگس ساٹھ کی دہائی کا گولڈن کپل کہلایا۔ انہوں نے ایک ساتھ 16 فلموں میں کام کیا ہے اور یہ سب کی سب فلمیں آر کے بینر تلے ہی بنیں۔ دونوں اپنے دور کے لیجنڈ کہلائے۔ اسکرین اور آف اسکرین۔۔دونوں کی کیمسٹری قابل دید تھی۔ دونوں کے ایک رومینٹک پوز کو راج کپور نے اپنی کمپنی کا لوگو بنالیا اور یہ لوگو آج بھی آر کے فلمز کا حصہ اور اس کی انفرادی پہچان ہے لیکن دونوں کے رشتے کو کس کی نظر لگی یہ ایک لمبی داستان ہے جو پھر سہی لیکن اتنا ضرور تھا کہ یہ محبت بھی ایک تلخی کے باعث ادھوری ہی رہ گئی۔
متھن چکرورتی اور سر ی دیوی
متھن چکرورتی اور سر ی دیوی اسی کی دھائی کے ٹاپ موسٹ آرٹسٹ تھے۔ 1984ء4 میں بنے والی فلم “جاگ اٹھا انسان “کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر ہی دونوں میں اظہار محبت ہوا۔ پھر خبریں آئیں کہ متھن اپنی بیوی یوگیتا بالی کو طلاق دینا چاہتے ہیں لیکن یوگیتا کو یہ منظور نہ ہوا انہوں نے طلاق دینے سے انکار کردیا۔ اسی دوران ایک فلمی میگزین نے متھن چکرورتی کی سری دیوی سے خفیہ طورکی خبرمیریج سرٹیفکیٹ کے ساتھ شائع کی تو یوگیتا بالی نے چراغ پا ہوکر خودکشی کی سنگین کوشش کرڈالی۔ ان کے حوصلے دیکھ کر مجبوراً متھن اور سری دیوی سدا کے لئے ایک دوسرے سے دور ہوگئے۔
جدید دور کی جدید محبتیں
محبتیں ہر دور میں پروان چڑھی ہیں۔ موجودہ دور میں بھی کچھ اسکرین اور کچھ آف اسکرین محبتیں ہزاروں لوگوں کی نظر میں ہیں۔ شاہد کپور پرانکا چوپڑا، انوشکا شرما۔۔ رن ویر سنگھ۔ اس سے زرا اور پیچھے نظر ڈالیں تو نیتوسنگھ۔۔رشی کپور، ہیما مالنی۔۔دھرمیندر۔۔وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ اب دور بدل چکا ہے لہذا اس دور میں ایک ایک ہیرو کا نام کئی کئی ہیروئنز کے ساتھ لیا جارہا ہے جیسے سلمان خان کا نام۔ سلمان کترینا کیف اور ایشوریہ رائے کے ساتھ کام کرکے (سچی یا جھوٹی) کئی پریم کہانیوں کو جنم دے چکے ہیں۔ان کے ساتھ یہی دونوں نام نہیں بلکہ نئے پرانے ناموں کا ایک طویل سلسلہ جوڑا جاتا ہے۔ اب پرانا دور بھی ختم ہوچکا نئے زمانے کی نئے باتیں ہیں لہذا اب لو ٹرائی اینگل کا زمانہ بھی لد چکا ہے۔

Leave a comment