Published On: Fri, Aug 19th, 2011

ائیربلیوکے طیارے کوایون صدرپرنصب ائیرکرافٹ گنوں نے نشانہ بنایا

کنٹرول ٹاور نے جہاز کو وقت پر نہیں بتایا کہ وہ ایون صدر کے اوپر نو فلائی زون کی غلط سمت میں مڑ چکا ہے، حکومت نے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سیل کردیا، سول ایوی ایشن کے افسر مختار کو ایجنسیوں نے سنگین دھمکیاں دیں اور زبان بند رکھنے کا حکم دیا، حکومت نے ایک سال بعد بھی رپورٹ جاری نہ کر کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکا، اےئر بلیو کے چیف ایگزیکٹو شاہد خاقان عباسی کامسلم لیگ نوا ز سے ہے اور انہی کے دباؤ اور تعلقات کی وجہ سے ابھی تک متاثرین کو رقم نہیں ملی، انتظامیہ معاملے کو طول دے کر انشورنس کی رقم سے اپنے ’’ کام ‘‘ چلا رہی ہے

 

مقبول ارشد
پاکستان کی تاریخ حادثات سے بھری ہوئی ہے۔ایسا ہی ایک حادثہ ایک سال قبل اسلام آبادمیں بھی اس وقت ہوا تھا کراچی سے اسلام آباد کے لئے پرواز کرنے والا نجی ائیرلائن ائیربلیو کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہو گیا اور پل بھر میں 152افراد جل کر خاک ہو گئے ۔ اب ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت کی عدم دلچسپی و پراسرار خاموشی کے باعث ملکی تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حادثے کی وجوت سر بستہ رازہیں ۔ سانحہ مارگلہ کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کی جا چکی ہے لیکن یہ رپورٹ ایک راز ہے جو اگر منظر عام پر آگیا تو شائد کچھ بھی باقی نہ بچے گا۔ اسے جس طرح خفیہ رکھا جارہا ہے ۔ اس سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ حادثے کو ایک سال پورا ہونے پر حکومت پاکستان نے ایک مختصر بیان جاری کر کے اس معاملے کو یہ کہہ کرمزید لٹکا دیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ اس وقت جاری کی جائے گی جب طیارہ بنانے والی کمپنیوں کا موقف سامنے آئے گا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس حادثے کی اصل رپورٹ اگر منظر عام پر آگئی تو ایک بھو نچا ل ضرور آئے گا جسے برداشت کرنا ایک سیاسی حکومت کے بس سے باہر ہو گا ۔کیونکہ اس میں حکومت اور ائیرلائن کی مجرمانہ غفلت تو شامل ہے ، اس کے ساتھ ساتھ بین الااقوامی قوا نین خلاف ورزی کا بھی احوال ہے ۔
حکومت نے ان 152افراد کے جان بحق ہونے پر متاثرین کی مرہم پوشی تو کیا کرنا تھی ، الٹا انہیں مختلف حیلے بہانوں سے ایک سال بعد بھی تنگ کیا جا رہا ہے ۔اس قبل کہ اس حادثے کی بابت کچھ تفصیلات سامنے لائی جائیں کہ یہ حادثہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟حکومت152افراد کی ہلاکت پر خاموش کیوں ہے؟ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کیوں منظر عام پر نہیں لائی جارہی؟کون مجرمانہ غفلت کا مرتکب ہورہا ہے؟حادثے میں جان بحق ہونیوالوں کے لواحقین کو معاوضہ کیوں نہیں مل رہا؟ ان تمام تفصیلات کو سامنے لانے سے پہلے ایک سال قبل پیش آنے والے حادثے کو یاد کر لیا جائے ۔
***
یہ 28جولائی 2010 ایک معمول کا دن تھا ۔
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے ائیربلیو کا طیارہ ED-202 اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا ۔طیارے میں عملے سمیت 152 مسافر سوا ر تھے ۔ اس سفر پر روانہ ہونے والے اپنے انجام سے باخبر تھے، ان کے سامنے تو ایک نئی منزل تھی جہاں ان کیلئے زندگی کے کچھ چیلنج ، کچھ نئے خواب کھڑے تھے ، لیکن ان کا یہ سفر ایک بھیانک خواب ثابت ہو گا ۔ یہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔جناح ایئر پورٹ پر صبح سویرے جو لوگ اپنے پیاروں کو خدا حافظ کہنے آئے ، وہ سات بج کر پچاس منٹ پر طیارہ اڑنے سے پہلے نہیں جانتے تھے کہ ایک گھنٹہ بائیس منٹ کے بعد ان کے پیارے لواحقین کہہ کر پکارے جائیں گے۔
نو بج کر بارہ منٹ پر اچانک یہ اطلاع ملک بھر میں پھیل گئی کہ ایک نجی ائیرلائن کمپنی کا کراچی سے آنے والا طیارہ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکراکر تباہ ہو گیا ہے اور اس میں عملے کے چھ ارکان سمیت 152 افراد میں سے کوئی بھی کوئی زندہ نہ بچ سکا۔ یہ حادثہ کتنے ہی گھرانوں پر بجلی بن کر گرا اور اس سے بھی زیادہ کربناک وہ مناظر تھے جو لواحقین کو دیکھنا پڑے ، سب سے زیادہ کربناک وہ لمحات تھے جب لواحقین کو راکھ بھر ایک تھیلا پکڑا کر کہا گیا کہ ’’ یہ ہے تمہارا عزیز‘‘ ۔
اس خوفناک حادثے میں 152انسانی جانوں کا ضیاع معمولی بات نہیں تھا ، لواحقین کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کے بھی اوسان بھی خطا ہوگئے، لیکن ایک سال گذر جانے کے بعد بھی جو مسائل پہلے دن تھے ،وہ آج بھی کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں، پہلے دن لواحقین سے جو وعدے کئے گئے تھے ، جو دعوے کئے گئے تھے ، جو اعلانات کئے گئے تھے وہ آج صرف وعدہ ہی بن کر رہ گئے ہیں۔
حکومت نے حا دثے کے مختلف اعلانات کئے ، حادثے کی فوری وجوہات جاننے کے لئے ٹیم کا اعلان ، مرنے والوں کے لواحقین کے لئے معاوضوں کا علان، اور نہ جانے کیا کچھ کہا گیا۔ ان میں سے کسی ایک بات پر بھی عمل نہیں کیا ۔بلکہ حقیقت میں ایسا ہو ا کہ حادثے کے بعد حکومت اور ائیربلیو کی انتظامیہ نے ایسے چپ سادھی کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ ایک طرف جہاں ائیربلیو کی طرف سے مرنے والوں کے لواحقین کو ’’ شٹل کاک ‘‘ بنانے کا عمل شروع ہوا وہاں اعلیٰ سرکاری افسران نے اس حادثے سے فائدہ اٹھانے کی ترکیبیں لڑ انی شروع کر دیں ۔
بلیک باکس کے نام اعلیٰ سرکاری افسران کے سیر سپاٹے
پاکستان میں اب تک جتنے بھی فضائی حادثات ہوئے ہیں ۔ ان میں حکام کی طرف سے بلیک باکس کو اہمیت دی جا تی رہی ہے اور یہ سن کر عوام کے بھی کان پک گئے ہیں کہ بلیک باکس کا سراغ مل گیا تو حادثے کی وجہ کا بھی پتہ چل جائے گا ۔ ہر حادثے کے بعد بلیک باکس بھی ملا اورحا دثے کی وجہ بھی پتہ چلی لیکن حادثے کی رپورٹ سامنے نہیں آ ئی ۔ ائیربلیو کا حادثہ ہوا تو اس وقت بھی یہی کہا گیا ۔ لیکن بلیک باکس کے ذریعے حا دثے کی وجہ کا تو پتہ نہ چل سکا کیونکہ اس حادثے کی وجہ ہی کچھ اور تھی لیکن بلیک باکس میں چھپے طیارے کے حادثے کی وجوہات کے راز کو پانے کے لئے ایوی ایشن کے حکام نے سرکاری خرچ پر خوب سیر سپاٹے کئے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر حادثے کے بعد بیرون ملک بلیک باکس لیجانے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ کمپیوٹر سافٹ ویئر ہے اس کی سہولت پاکستان میں بھی ائیر لائن کے پاس ہے ، ڈی کوڈ کا کام یہاں بھی ہوسکتا ہے ، لیکن سلسلہ یہ اس وقت شروع ہوجاتا ہے جسے ہی کوئی فضائی حادثہ ہوتا ہے تو بلیک باکس کو بیرون ملک لیجانے کیلئے افسران کے غیر ملکی دورے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان سیفٹی انویسٹی گیشن اتھارٹی کا ہے ۔ یہ وہ ذمہ دار ادارہ ہے جو سیفٹی کو انشور کرتا ہے اور جو فضائی حادثات کی تحقیقات کرتا ہے ، اس شعبے کا سربراہ ہمیشہ ڈیپوٹیشن پر ہوتا ہے ، کنٹریکٹ پر ہوتا ہے ، جب وہ آتا ہے تو اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسے کیا کرنا ہے ، وہ کچھ دن سیکھتا ہے پھر چلا جاتا ہے۔اسی لئے اب تک کسی فضائی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے نہیں آسکی ۔ زیادہ تر حادثات کی ذمہ داری پائلٹس پر ڈال کر فائلیں بند کر دی گئیں۔
حکومت تحقیقاتی رپورٹ کیوں منظر عام پر نہیں لا رہی؟
حادثے کے بعد حکومت کی طرف سے ایک تحقیقاتی ٹیم کا اعلان کیا گیا جس نے سال بھر اس حادثے کی تحقیقات کیں ۔ حالانکہ یہ تحقیقات چند ہفتوں میں ہو سکتی تھیں لیکن اس تحقیقات میں ایک سال ضا ئع کیا گیا۔ 4اگست کو وزیراعظم ہاؤس میں طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے ’’سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ‘ نے ایئر بلیو کے طیارہ اے بی کیو202 کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی۔ اس موقع پر تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ وزیر دفاع چودھری احمد مختار، سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر) اطہر علی ، ڈیفنس چیف آف اسٹاف(آپریشنز) ایئر مارشل محمد حسین، ایڈیشنل سیکریٹری ڈیفنس میجر جنرل راجہ عارف نذیر اور ڈی جی سی اے اے ایئر مارشل (ر) خالد چودھری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کو واقعہ کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور انہیں واقعہ کا باعث بننے والے محرکات سے بھی آگاہ کیا گیا ۔تحقیقاتی کمیٹی نے وزیر اعظم سے کہا کہ حادثے کی مکمل رپورٹ طیارہ سازکمپنی ایئر بس، جرمنی کے فیڈرل بیورو آف ایئر کرافٹ ایکسی ڈیفنس انویسٹی گیشن، انٹر نیشنل ایروانجن اور نیشنل ٹرانسمیشن سیفٹی بورد امریکہ کی رائے اور عالمی ایوی ایشن آرگنائزیشن کی اجازت ملنے کے بعد ہی جاری کی جائے گی۔
رپورٹ میں وجوہات ظاہر کئے گئے بغیر کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران طیارے کو اندرونی وبیرونی خطرات ، سسٹم کی ناکام ، دوران پرواز آگ لگنے ، پرندہ ٹکرانے ودیگر ممکنہ وجوہ کو مد نظر رکھا گیا ۔ تحقیقات میں طیارہ ساز کمپنی ایئر بس فرانس ، امریکی ایجنسی نیشنل ٹرانسمیشن سیفٹی بورڈ، جرمن فیڈرل بیوروآف ایئر کرافت اور انٹرنیشنل ایروانجن نامی ادارے کے ماہرین کو تحقیقاتی عمل میں شریک کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایئر بلیو کا بدقسمت طیارہ تکنیکی حوالے سے مکمل طور پر زبردست حالت میں تھا۔ رپورٹ میں حادثے کی تمام ذمہ داری پائلٹ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرولر کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔کنٹرول ٹاور نے جہاز کو وقت پر نہیں بتایا کہ وہ غلط سمت میں مڑ چکا ہے ۔ بلیک باکس سے ملنے والی معلومات کے مطابق جہاز نے ٹیک آف کیا اتو کاک پٹ کے ماحول میں تناؤ تھا۔پائلٹ کیپٹن پرویز چودھری اپنے کو پائلٹ فرسٹ آفیسر مجتنب خان کی اطلاعات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔ ہوائی اڈے کے کنٹرو ل ٹاور نے جہاز کے غلط سمت جانے کی وارننگ دی تھی تاہم فرسٹ آفیسر کے بتانے کے باوجود پائلٹ نے اس پر توجہ نہیں دی۔
ائیربلیو حادثہ ، حقیقت کیا ہے؟
حکومت کی تحقیقاتی ٹیم نے اس حادثے کی بابت اپنی رپورٹ میں جن خامیوں کی نشاندہی کی وہ درست ہیں تاہم بعض ذرائع کہتے ہیں کہ حکومت کو پہلے دن سے حا دثے کی وجہ کا علم تھا لیکن اسے جان بوجھ کر منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ ائر لائن انتظامیہ ، سول ایوی ایشن اور حکومت کی شروع سے ہی کوشش تھی کہ طیارے کی تباہی کی ذمہ داری پائلٹ پر ڈال کر بری الذمہ ہو جائے لیکن سامنے آنے والے شواہد نے یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ اب تک طیارے کے حادثے کی جو وجوہات بتائی جاتی رہی ہیں ، وہ سب غلط ہیں ۔ حادثے میں قطعی طور پر پائلٹ کا قصور نہیں تھا ۔اصل حقیقت وہ نہیں جو بتائی جا رہی ہے ۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ 28جولائی کو کراچی سے اسلام آباد آنیوالی ایئر بلیو کی بدقسمت پرواز نمبر فیصل مسجد کے عقب اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے اوپر موسم کی خرابی کے باعث نچلی پرواز کرتے ہوئے ایوان صدر کے قریب نوفلائی زون میں داخل ہو گئی تھی ۔ یہی غلطی تھی جو اس طیارے کے پائلٹ سے ہوئی اور حادثے کا باعث بنی ۔جیسے ہی طیارہ ایون صدر کے اوپر نو فلائی زون میں داخل ہوا ، عین اس وقت ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہاؤس کی حفاظت کے لئے پہلے سے نصب شدہ سنسر کے اوپر خود کار اینٹی ایئر کرافٹ مشین گن نے فائرنگ کر دی اور پل بھر میں طیارے کو نیچے مار گرایا۔فائر لگتے ہی طیارہ لڑکھڑا گیا اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے اوپر پرواز کرتا ہوا بالاآخر پہاڑو ں سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا۔
اس ضمن میں ثبوت کے طور پر یہ بات کی جاتی ہے کہ جس وقت حادثہ ہوا تو وزیر داخلہ رحمان ملک نے بیان دیا تھا کہ طیارے کے ملبے کی تلاش کے دوران پانچ زندہ بچ جانے والے زخمی مسافروں کی ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے بھی یہ کہا تھا کہ طیارے کے ملبے سے بلیک باکس بھی مل گیاہے ۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ طیارے کی حادثے کی وجوہات کا تو اسی وقت پتہ چل گیا تھا لیکن اس دوران حکومت نے پاکستان کے تمام نجی چینلز سے یہ خبر نشر کروائی کہ زندہ بچ جانے والے پانچ پاکستانی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہیں اور تاحال موسم کی خرابی اور دشوار گزار پہاڑی خطرناک راستوں کی وجہ سے بلیک باکس بھی نہیں مل سکا۔ اسی وقت تک حکومت پاکستان کی جانب سے معاملہ کو گول مول کرنے کے لئے ہلاک شدگان کے ورثاء کو فی کس پانچ لاکھ روپیہ کی امداد کا اعلان بھی کیا گیاجو آج تک ورثاء کو نہیں ملی۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق حکومت نے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان ہونے والی گفتگو کو بھی سیل کردیا، اور حادثے والے دن کنٹرول ٹاور پر موجود سول ایوی ایشن کے افسر مختار کو ایجنسیوں نے سنگین دھمکیوں کے ساتھ زبان بند رکھنے کا بھی حکم جاری کیا تھا۔ مختار کا زیادہ وقت اب چکلالہ ایئر بیس پر ہی گزرتا ہے ۔ وجہ کیا ہے ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر عدالت کا کوئی غیر جانبدار کمیشن اس حادثے کی تحقیقات کرے تو سول ایوی ایشن کے آفیسر مختار جسکی پائلٹ سے حادثہ سے قبل گفتگو ہوئی تھی اسے طلب کر کے اس معاملے کو سلجھایا جا سکتا ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ حقیقت میں ایسا ہی ہوا لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس لئے اس بات کو اس وقت تک ثابت نہیں کیا جا سکتا جب حکو مت اس بات کا اعتراف نہ کر لے ۔ لیکن حکومت اس حقیقت کا اعتراف کر کے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہیں مار سکتی۔
لواحقین کو معاوضہ کیوں نہ مل سکا ؟
حادثے میں مرنیوالوں کے لواحقین ایک سال بعد اپنے حقوق کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ انہیں ابھی تک وہ معاوضہ بھی نہیں مل سکا جس کا اعلان کیا گیا تھا ۔ لواحقین معاوضے کی رقم بین الااقوامی قوانین کے مطابق اداکرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ 28مئی 1999کو فضائی سفر کرنے والوں کے حقوق سے متعلق 28 مئی 1999کو کینڈا میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کا اجلاس میں طے کیا گیا تھا کہ فضائی کمپنیاں حادثے کی صورت میں معاوضے کے علاوہ کچھ رقم فوری طور پر ادا کریں گی۔ اسی قانون کے تحت دنیا بھر میں ہونے والے فضا ئی حا دثات کے متاثرین کو انشورنس کی رقم ادا کی جا رہی ہے ۔ تاہم ائیربلیو کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا ۔ اس کی واحد وجہ شائد یہی ہے کہ ائیربلیو کے چیف ایگزیکٹو شاہد خاقان عباسی کا تعلق ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نوا ز سے ہے اور انہی کے دباؤ اور تعلقات کی وجہ سے ابھی تک متاثرین کو رقم نہیں ملی اور ائیربلیو کی انتظامیہ اس معاملے کو طول دے کر انشورنس کی رقم سے اپنے ’’ کام ‘‘ چلا رہی ہے۔
تباہ ہونے والا بدقسمت طیارہ معروف انشورنس کمپنی کیٹلن گروپ لمیٹڈ سے پوری طرح انشورڈ تھا۔ یہ کمپنی نہ صرف ایئر لائن بلکہ مسافروں اور ان کے سامان کا معاوضہ ادا کرنے کی بھی پابندہے۔ متاثرین کو انشورنس کی رقم امریکی قانون کے مطابق ملنی چاہیے لیکن مقام افسوس ہے یہ بات کہ انہیں رقم پاکستانی قانون کے مطابق بھی نہیں ملی ۔ انشورنس کے مطابق معاوضے کی کل رقم پچاسی کروڑ اسی لاکھ روپے بنتی ہے ، جو حقیقی لواحقین کوملنی چاہیے تھی ۔ معاوضہ لینے والوں کو حقیقی لواحقین ثابت کرنے کیلئے وراثتی تصدیق نامہ پیش کرناتھا۔ وہ پیش کر دیا گیا ، تاہم بہت سے متاثرین گلہ کرتے ہیں کہ ایئر لائن ا نتظامیہ نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اوروراثتی سرٹیفکیٹس کی تیاری میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اےئر بلیو کے جنرل منیجر کہتے ہیں کہ اب تک23 متاثرین کو رقم ادا بھی کی جاچکی ہے۔ تاہم جب ان سے معاوضہ وصول کرنے والوں کے نام اور پتے پوچھے گئے تو وہ کسی ایک کا نام بھی بتانے کو تیار نہیں ہوئے۔ حادثے کے بعد وفاقی حکومت کی طرف سے متاثرین کے لئے بھی فی کس پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ لواحقین سے کہا گہا تھا کہ یہ رقم انھیں فوری فراہم کی جائے گی۔ لیکن کئی افراد کو ابھی تک یہ رقم نہیں ملی۔
معاوضے کی رقم پر سیاست
ایئر بلیو طیارہ حادثے میں پیاروں سے محروم ہونے والوں کے ورثاء تاحال سرکاری معاوضے کی عدم ادائیگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایئر بلیو کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ایئر بلیو نے 152 میں سے 146 جاں بحق افراد کے ورثاء کو ابتدائی معاوضہ دیدیا ہے۔ انشورنس کے 50 لاکھ کی ادائیگی ڈیتھ سر ٹیفکیٹ نہ ملنے کی وجہ سے صرف 60خاندانوں کو کی گئی۔
سانحہ مارگلہ کے مثاترین کے لیے اعلان کردہ معاوضہ آج تک ملک میں ہونے والے کسی بھی فضائی حادثے کے بعد اعلان کردہ معاوضے سے زیادہ ہے ، یعنی ہر مسافر کے لواحقین کے لیے پچاس لاکھ روپے۔ تاہم ایئر بلیو کریش ایکشن کمیٹی اس سے بھی مطمئن نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم کافی نہیں اس میں اضافہ ہوناچاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرین کی بڑی تعداد نے معاوضے میں اضافے کیلئے امریکی عدالت کا رخ کر لیا۔ امریکی عدالت میں دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ معاوضے کی رقم کا تعین جاں بحق ہونے والے افراد کی قابلیت ، عمر اور پیشے کے حساب سے کیا جائے۔ ایئر بلو کریش ایکشن کمیٹی کے صدر جنید حامد کے مطابق 40سے 45 فیملز ہیں جنہوں نے امریکی عدلیہ کے اندر سو داخل کر دیا ہے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں حکومت پاکستان سے سول ایوی ایشن سے ، وزارت دفاع اور ائیر بلو سے کوئی توقع نہیں ہے کسی بھی قسم کے انصاف کی۔
بیشتر ورثاء وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اعلان کردہ 5 لاکھ معاوضے کی رقم سے تاحال محروم ہیں ۔ ان میں ملتان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے آبائی محلہ گیلانیاں پاک گیٹ سے تعلق رکھنے والے 34سالہ رحیم خان راجپوت کے ورثا بھی شامل ہیں۔ ایک سال میں اب تک صرف35مسافروں کے ورثا کو ہی وزیراعظم کی اعلان کردہ رقم ملی ہے۔ جب کہ باقی سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔
ایئر بلیو کریش افیکٹیز گروپ کے حارث لودھی اور دیگر متاثرہ خاندان ایئر بلیو کے سربراہ اور نواز لیگ کے رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی کی جانب سے جاں بحق مسافروں کے ورثاء سے دور دور رہنے اور اظہار ہمدردی نہ کرنے پر افسوس کا اظہارکرتے ہیں۔
کیس عدالت میں !
سانحہ مارگلہ نے بہت سے گھروں کے کفیل چھین لئے، کی کا باپ اور کسی کا بیٹا اس حادثے کا شکار ہوا، کسی کی ماں تو کسی کی بیوی جاں بحق ہوگئی۔ ایبٹ آباد کے محمد زمان نے اس ھادثے کے بعد اپنے 8پیاروں کو دفن کیا ہے۔ جس میں اس کی والدہ ، بہنیں اور قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔ کرنل شمیم کا جواں سالہ بیٹابھی حادثے میں جاں بحق ہوا جس کی لاش چند باقیات کی صورت میں ملیں، بہت سوں کو تو اپنوں کا آخری دیداری بھی نصیب نہیں ہوا۔ ان میں سے ایک قیصر بھی ہے جس کے بھائی کیلئے DNA ٹیسٹ تو ہوا مگر نتیجہ آج تک نہیں مل سکا۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے لواحقین نے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر لیا ہے ۔حبیب الرحمان ولد عبدالرحمان سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔حبیب نے بھی چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ ایئر بلیو حادثہ ہونے سے قبل حبیب یتیم نہیں تھا لیکن اس کے بعد یہ گھر کے واحد کفیل سے بھی محروم ہوگیا ۔ ایسی ہی دکھ بھری کہانی کامران طفیل کی بھی ہے ، اس کے والد انسپکٹر طفیل بھی اس بدقسمت طیارے میں سوار تھے جو مارگلہ کی پہاڑیوں سے جاٹکرایا۔ کامران بھی عدالت سے انصاف مانگنے آیا ہے۔
ایم این اے ماروی میمن نے بھی پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ دائر کر رکھی ہے جس میں حکومت، ایئر بلوانتظامیہ، وزارت دفاع ، سول ایوی ایشن اتھارٹی ، وزارت داخلہ ، پمز انتظامیہ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس رٹ کا مقصد یہ ہے کہ عدالت واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لانے کا حکم دے۔ایئر بلو طیارہ حادثے کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجازافضل خو دکررہے ہیں۔اس کے علاوہ بھی اعلیٰ عدالتوں میں کئی کیسز زیر سماعت ہیں۔
ایک کیس سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔ یہ کیس ایئر بلیو طیارے کے حادثے میں مرنے والے جرمن باشندے ڈاکٹر مرکو کی بیوہ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جس میں ائیربلیو سے 10لاکھ ڈالر ہرجانے کادعویٰ کیا گیا ہے ۔اےئر بلیو حادثے میں مدعیہ میرا مرکو کا خاوند بھی شامل تھا۔ مدعیہ کے وکیل سردار اعجاز خان کے مطابق دعوے میں کہا گیا ہے کہ ایئر بلیو کی طرف سے احتیاطی اور حفاظتی قواعد پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور نہ ہی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کی جبکہ طیارہ بھی پرواز کے قابل نہیں تھا۔ یہ حقائق اس حادثے کا سبب بنے جس میں مدعیہ کے خاوند بھی ہلاک ہوئے۔ انکے خاوند کی عمر60سال تھی اور اوسط طبعی عمر81 سال کو مدنظر رکھیں تو وہ مزید 21سال تک اپنی فیملی کو مالی طور پر سپورٹ کر سکتے تھے اس لیے عدالت مدعا علیہان سے 10لاکھ ڈالر مع 21فی صد سالانہ سود ادا کروائے۔ گذشتہ ہفتہ سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایئر بلیو کمپنی ، سول ایوی ایشن اتھارٹی، وفاقی حکومت اور ایئر بس بنانے والی کمپنی کو15ستمبر تک تحریری جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
لواحقین کیا چاہتے ہیں ؟
ائیربلیو طیارے کے حادثے میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ ان کا حق ہے کہ انہیں تحقیقاتی رپورٹ فراہم کی جائے تاکہ حادثے کی وجہ معلوم ہوسکے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے تقریباً سو خاندانوں پر مشتمل ائیر بلیو کریش افیکٹیز گروپ کے سربراہ کرنل شمیم اس رپورٹ کے حصول کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔تاہم ان کی دال بالکل نہیں گل رہی ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تحقیقات میں ائیر بلیو کے پائلٹ کی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو اس سے لواحقین کو ملنے والے پچاس لاکھ معاوضے کی رقم کئی گنازیادہ ہو جائے گی جو ائیربلیو کو بھرنا پڑے گی اور یہی بات ائیربلیو کو منظور نہیں ۔ اس لئے جہاں ائیربلیو کی طرف سے حکومت پر اس رپورٹ کو سامنے نہ لانے کا دباؤ ہے وہاں حکومت بھی نہیں چاہتی کہ یہ رپورٹ منظر عا م پر آئے کیونکہ ایسا ہوا تو جہاں حکومت کی کوتاہی ، لاپرواہی سامنے آئے گی وہاں اس سے قبل ہونے حادثوں کی رپورٹوں کو سامنے لانے کا مطالبہ بھی زور پکڑے گا۔
یہ باتیں ہیں جن سے متاثرین کے اہل خانہ بھی آگاہ ہیں، اسلئے انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا ۔ جان بحق ہونے والوں کے متاثرین میں سے23خاندانوں نے مل کر چیف جسٹس آف پاکستان افتخا ر محمد چوہدری کو اس حادثے کا از حود نوٹس لینے کی درخواست جمع کرائی جس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں لیکن ان کی درخواست کی شنوائی نہیں ہوئی۔ کرنل شمیم کے مطابق انہوں نے پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کیا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے 25 اکتوبر2010 کو حکم دیا کہ دو مہینے کے اندر تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔کرنل شمیم نے الزام عائد کیا کہ اس حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں عدلیہ بھی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ ائیربلیو کے چیف آپریٹنگ آفسر شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ نواز کے رکن پارلیمان ہیں اور حکومت اپنے ساتھی کے خلاف کاروائی کیوں کرے گی۔وہ کہتے ہیں کہ یہ عوام کاحق ہے۔ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے قانون کے تحت سول ایوی ایشن اس بات کی پابند ہے کہ وہ تحقیقات سے عوام کو آگاہ کرے ، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب پاکستان کی طرف سے شگاکو کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
Displaying 14 Comments
Have Your Say
  1. awais says:

    dear fact, its a awesome story and disclose hidden investigation. its good to read and know real face of ppp govt. i want to hang out rehman malik and qamar kaira for there stupidines.

  2. mugbata says:

    آپ نے کما ل کر دیا ۔واقعی آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔ اتنی تحقیق اور ایسی انفارمیشن ، واقعی آپ کا جواب نہیں ۔ آپ کے گذشتہ شمارے بھی لاجواب ہیں ۔ بہت سی سٹوریز ایسی ہیں جو ابھی تک انکشافات کا درجہ رکھتی ہیں ۔ اللہ آپ کا زور قلم اور زیادہ کرے اور اپنی امان میں رکھے۔
    مجتبیٰ ،کراچی

  3. waqar says:

    فیکٹ نے جو انکشافات کئے ہیں اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کو اس کا ایکشن لینا چاہیے۔ نہ جانے ہمارے حکمران ایک جھوٹ چھپانے کے لئے سو جھوٹ کیوں بولتے ہیں ۔اللہ انہیں ہدایت دے۔ اب تو لوگ یہ عام کہنے لگے ہیں کہ مشرف کا دور پیپلز پارٹی کی حکومت سے ہزار درجے بہتر تھا ۔اس دور میں جتنے حالات خراب ہوئے ہیں ، اتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔ ہماری فوج کیا اسی طرح سوئی رہے گی؟
    وقار بن علی، اسلام آباد

  4. naimurrehman says:

    یہ ایک چشم کشارپورٹ ہے۔جس نے ہمارے ملک میں قائم کی جانیوالی تحقیقاتی کمیٹیوں کا کچاچٹھا کھول دیا ہے۔وہیں یہ بھی ثابت ہواکہ بظاہرحکومت اوراپوزیشن میں رہنے والےسیاستدان ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور ہرقسم کی کرپشن میں ایک دوسرے کابھرپور ساتھ دیتے ہیں۔جہاز میں سفرکرنے والے سب نہیں تو کچھ لوگ تو ضرور بااثرطبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اگر وہ اس ملک میں انصاف حاصل نہیں کرسکتے تو عام آدمی کاکیاہوگا
    نعیم الرحمٰن،کراچی

  5. Hammad Khan says:

    very sad

  6. Hammad Ali says:

    humein khud apney liye kuch karna paray ga.nhi tu humari qom ki halat ye log nhi badalney walay.

  7. Hammad Ali says:

    sab se bari baat hamari qom mein education ka na hona hay.ye jitnay b income support program in se hamari qom ko behkari banay ja raha hay aur vote khariday ja rahay hain.

  8. hassan saeed says:

    qoqm bhe or humuran bhe hme log to in logo ko vote dy kr seat pr bethaty hn

  9. murad says:

    میں فیکٹ کا کافی عرصے سے ریڈر ہوں ۔ آپ واقعی کما ل کر رہے ہیں ۔آپ کی کمٹمنٹ کی داد دینی پڑے گی ۔ بغیر اشتہارات کے آپ فیکٹ کو ایک مشن کے ساتھ چلا رہے ہیں ۔ اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتاےئے ۔ میں حاضر ہوں ۔
    مراد، اسلام آباد

  10. hamid lafif says:

    fact bohat acha kam kr raha hy very good

  11. Fact Hamesha Haqeeqat batata hai Lekin es ko update bohat dino bad kiya jata hai
    koshish kr k esay jaldi update kiya karain.
    thanx

  12. saqib says:

    میں ایک عرصہ سے فیکٹ کا قاری ہوں ۔ جتنا مزہ مجھے فیکٹ پڑھنے میں آتا ہے اتنا کوئی اخبار ، میگزین یا ٹی وی دیکھنے میں نہیں آ تا ۔میں شدت سے فیکٹ کی اشاعت کا انتظار کر رہا ہوں ۔ اللہ آپ کے زور قلم میں اضافہ کرے ۔
    رمضان رندھاوا

  13. Munawar Hasan says:

    Very nice fact. keep it up.
    Munawar Hasan
    Karachi

  14. Muhammad Aqeel says:

    Fact bohat acha he umdda hai. our haqqiqat se parda uthanay ka ziria bi. isay umesha jari rehna chaiay.

Leave a comment

  • yasser on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • shylabark on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • shylabark on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • randisl3 on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • jenaber on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات