Published On: Thu, Jan 29th, 2015

نوکری چھوڑتے وقت ان غلطیوں سے بچیں

Share This
Tags
نوکری تلاش کرنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے لیکن نوکری چھوڑنا بھی ایک صبر آزما مرحلہ ہوتاہے ، بالخصوص جب آپ کو نوکری سے نکالاجارہاہوتاہم اگر آپ ایک کامیاب کریئر کے امکانات بڑھانا چاہتے ہیں تو ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
مزاحمت نہ کریں
جب کسی کو پکی چھٹی کی اطلاع ملے تو چیخنے یا غصہ کرنے کو جی چاہے گایاوہ نوکری سے نہ نکالنے کی درخواست بھی کرسکتاہے تاہم ایسے موقع پر اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ اپنے ساتھیوں کے سامنے جذبات کا اظہار کرنے سے بھی خود کو روکیے کیونکہ مستقبل میں آپ چاہیں گے کہ آپ کی ٹیم کے ساتھی آپ کو آپ کی کامیابیوں کے لیے یاد کریں۔
چوری یا کمپنی کانقصان
آپ کو ایسا لگ سکتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی یا کسی اور کی غلطی کی سزا آپ بھگت رہے تاہم بدلہ لینے کی کوشش نہیں کریں۔ دفتر کی چیزیں لے جانا یا انہیں نقصان پہنچانا انتہائی برا منصوبہ ہے۔ اس سے آپ کی ساکھ متاثر ہوگی۔
نوٹس پیریڈ میں سستی
آپ کا نوٹس پیریڈ آنے والا ہے اور نوکری کا اختتامی دن تیزی سے آرہا ہے تاہم اس سے آپ کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے اور یہ اسی طرح ہونی چاہیے جیسے نوٹس پیریڈ سے پہلے ہوا کرتی تھی۔ لوگ آپ کی کامیابیوں کو یاد رکھیں نہیں رکھیں۔
اہم ڈیٹا اور سامان واپس نہ کرنا
اہم ڈیٹا اور سامان کواپنے دفتر یاکمپنی کو واپس کرنا نہ بھولیں اور اس حوالے سے کلیئرنس حاصل کرلیں۔job-loss
لین دین کے تمام معاملات کلیئر کرلیں
آفس چھوڑنے سے قبل اپنی رقم کی تلافی کرلیں ،وہ میڈیکل بلز ہوں یا پھر سفری اخراجات یا پھر کسی ساتھی سے لیا ہوااْدھار ہوا، نوکری چھوڑنے کے بعد ایسا کرنا مشکل ہوگا۔
تنقید کرنا
جانے سے قبل یا جانے کے بعد اپنے غصہ یا بھڑاس نکالنے پر کنٹرول رکھیں، آپ کی ’ تنقید‘ سے آپ یا آپ کی ٹیم کے ساتھیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر مل سکتا ہے کہ نوکری کرتے وقت آپ کیوں خاموش رہے۔
مستقبل میں کرنے والی نوکری پر بات سے گریز
اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد کے ساتھ اپنی مستقبل کے منصوبے شیئر نہ کریں۔ پھر چاہیں یہ بات آپ کی نوکری کی پیشکش کے حوالے سے ہو یا پھر کہیں انٹرویو کی۔ ’بہترین نوکری‘ کے بارے میں گفتگو آپ کے ساتھیوں کے اندر منفی تاثرات کو جنم دے گی اور اگر کبھی نئی ملازمت میں معاملات نہ بن پائے تو آپ کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
باس کی برائی نہ کریں
سابقہ ساتھیوں کے ساتھ چائے کی پیالی کے ساتھ ٹیم میٹس یا منیجر کی برائی کرنا پرکشش لگ سکتا ہے تاہم ایسا نہ کریں۔ آپ جو بھی کہیں گے اس کے بعد یہ آپکی کام کرنے والی جگہ پر موضوع بحث بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں انٹرویوز کے دوران آپ سے پرانی ملازمت چھوڑنے کے حوالے سے پوچھا جائے گا اور اگر انہوں نے آپ کے پرانے باس سے رابطہ کیا اوراْنہوں نے بہتر رائے نہ دی تواسکا خمیازہ بھی آپ ہی کو بھگتنا پڑسکتاہے۔
جاتے وقت سب کو الوداع کہیں
اکثر اوقات ایساہوسکتاہے کہ کسی ایک شخص کی وجہ سے آپ کا بوس آپ کو نوکری سے نکال دے اورآپ دیگر تمام لوگوں کے ساتھ بھی منہ بنائے دفتر چھوڑدیں تواِس سے دیگر لوگ بھی آپ کو ہی براسمجھیں گے جو مستقبل میں آپ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتاہے لہٰذا ماضی کی خوشگواریادوں کے ساتھ تمام لوگوں کوا لوداع کہیں۔
گمراہ کن سی وی سے گریز کریں
اپنی نئی ممکنہ کمپنی میں خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا فائدہ مند بات لگ سکتی ہے تاہم اس معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ زیادہ تر کمپنیاں دیگر ذرائع سے آپ کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات کی چھان بین کرسکتی ہیں اور اگر اس میں کچھ غلط ثابت ہوگیا تو آپ اس نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

Leave a comment

  • shylabark on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • shylabark on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • randisl3 on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • jenaber on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات
  • billywelsh on بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات