Published On: Thu, May 21st, 2015

بول ٹی وی کیخلاف سازش کا سکرپٹ سلطان علی لاکھانی نے لکھا، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود حصہ دار بنے ، بول کی بدنامی کے کئی پلانز باقی۔۔۔ نواز لیگ کے میڈیا سیل نے بھی حصہ ڈالا۔۔ حیران کن انکشافات

پاکستانی میڈیا کے مطابق تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف جعلی ڈگری سکینڈل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پورے ملک میں جعلی ڈگری سکینڈل نے زلزلہ برپا کر دیا ہے۔۔۔یہ پاکستان کا سب سے مکروہ دھندہ تھا جو ایگزیکٹ کر رہا تھا ۔۔۔یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے ۔۔۔ذمہ داروں کو معاف نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔ایکسپریس ، جیواور دنیا ٹی وی نے اپنے آدھے آدھے گھنٹے سے بھی زیادہ کے بلیٹن میں ایک ایسا طوفان برپا کیا اور پھر اس پر حکومتی ایف آئی اے کی چھاپہ مار کارروائی نے سونے پر سہاگہ کے مصداق خوف و ہراس کی ایسی آندھی چلائی جسے دیکھ کر یہ گمان ہونے لگا کہ اس ساری کارروائی کے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑا کھیل ہے۔ ۔۔یہ بات طے ہے کہ کہیں اس کھیل کی پتلیاں ہلائی جا رہی ہیں ۔ ۔۔لوگوں کو نچایا جا رہا ہے ۔۔۔اور میڈیا اس کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔
کیا مقصد بول ٹی وی کو 146146 ناک آئوٹ کرنا ہے ؟ایف آئی اے کے چھاپوں سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ اس کا کوئی مقصد ہے؟ اور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ہاتھ ضرور ہے۔
اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ ایگزیکٹ کچھ غلط کام کر رہی تھی تو اس کا خیال حکومتی اداروں کو صرف نیو یارک ٹائمز کی سٹوری پڑھ کر کیوں آیا؟ اس سے پہلے نیو یارک ٹائمز نے جو سٹوریاں شائع کیں، ان پر بھی اسی طرح کا ایکشن ہوا؟؟ یہ ہے وہ سوال جو اس پوری کارروائی کو مشکوک بنا رہا ہے۔
اگر ایگزیکٹ پر لگنے والے الزام کو کچھ فیصد بھی تسلیم کر لیا جائے تو سوال صرف اتنا سا ہے کہ کیا اس کارروائی کا طریقہ کار یہ ہونا چاہیے تھا ؟ کیا پہلے جن کمپنیوں پر الزامات لگتے رہے ، ان کمپنیوں کے خلاف بھی ایسی ہی میڈیا کمپین چلائی گئی؟ جواب یقینی طور پر نفی میں ہو گا۔ اس سے مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ ٹارگٹ صرف بول ٹی وی ہے۔ بول ٹی وی کے آنے سے کچھ لوگ خوف زدہ ہیں۔
T1حقائق دیکھے جائیں تو ایگزیکٹ کے خلاف جعلی ڈگریوں کی سیل کے حوالے سے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی سٹوری ایکسپریس میڈیا گروپ کے ساتھ کاروباری لڑائی کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کسی نہ کسی طرح ایکسپریس میڈیا گروپ کے مالک سلطان علی لاکھانی کا ہاتھ ہے۔
یہ ایک پری پلان منصوبہ نظر آتا ہے جس میں ایکسپریس میڈیا گروپ کے علاوہ جیو ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمان اور دنیا ٹی وی کے مالک میاں عامر محمود نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دیں ۔ان تینوں میڈیا گروز سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں ایک کمپنی کے خلاف اتنی بڑی کمپین چلائی گئی، کیا اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ؟حالانکہ پاکستان مین آئے روز کرپشن اور بے ضابطگیوں کے اس سے کئی گنا بڑے سکینڈل منظر عام پر آ رہے ہیں ۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ایگزیکٹ غلط کام کر رہی تھی تو کیا ایگزیکٹ کے خلاف چلائی جانے والی یہ مہم صحافتی اصولوں و ضوابط کے مطابق ہے یا اس میں ان کا کوئی اپنا مفاد شامل ہے ؟
ایگزیکٹ کے میڈیا میں آنے سے خوفزدہ دوسرے میڈیا گروپ ایگزیکٹ کے بول ٹی وی اور اخبارات کے خلاف ایک بڑی سازش کا سکرپٹ تیار کر چکے ہیں ۔اس سازش میں کئی میڈیا گروپوں کے مالکان شامل ہیں جن کا مقصد بول ٹی اوی کو منظر عام پر آنے سے روکنا اور ایگزیکٹ کمپنی کو مختلف کیسز میں پھنسا کر نفسیاتی طور پر ناک آئوٹ کر نا ہے ۔

فیکٹ نے صحافتی دنیا ، آئی ٹی ماہرین ، سٹاک ایکسچینج بروکرز ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ملک کے باخبر حلقوں سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں جو حقائق اکٹھے کئے ہیں وہ بڑے خوفناک ہیں ۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ ایگزیکٹ کے میڈیا میں آنے سے خوفزدہ دوسرے میڈیا گروپ ایگزیکٹ کے بول ٹی وی اور اخبارات کے خلاف ایک بڑی سازش کا سکرپٹ تیار کر چکے ہیں ۔اس سازش میں کئی میڈیا گروپوں کے مالکان شامل ہیں جن کا مقصد بول ٹی اوی کو منظر عام پر آنے سے روکنا اور ایگزیکٹ کمپنی کو مختلف کیسز میں پھنسا کر نفسیاتی طور پر ناک آئوٹ کر نا ہے ۔ اس مقصد کیلئے جہاں نیو یارک ٹائمز آلہ کار بنا وہاں ابھی سکرپٹ کے مطابق اسی طرح کے کئی پلانز آنے باقی ہیں جس کے تحت بول کو پاکستان میں بدنام کیا جائے گا۔
فیکٹ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس بات سے قطع نظر کے ایگزیکٹ کمپنی ڈگریوں کی سیل میں ملوث ہے یا نہیں ، اِ س وقت لڑائی بول کو میڈیا انڈسٹری میں آ نے سے روکنے کے لئے ہو رہی ہے۔یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ بول کیخلاف نیو یارک ٹائمزکی سٹوری کے پیچھے ایکسپریس میڈیا گروپ کا ہاتھ ہے کیونکہ بول نے ایکسپریس میڈیا گروپ کے مالک سلطان لاکھانی کے خلاف سائبر کرائمز کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کا انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا پارٹنر ہے۔یہی وہ کھیل ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے ۔
interim-sheet-page-02
ایگزیکٹ کے خلاف نیو یارک ٹائمزکی سٹوری کے پیچھے ایکسپریس میڈیا گروپ کا ہاتھ ہے کیونکہ بول نے ایکسپریس میڈیا گروپ کے مالک سلطان لاکھانی کے خلاف سائبر کرائمز کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔ ایکسپریس میڈیا گروپ کا انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا پارٹنر ہے۔
ایکسپریس میڈیا گروپ کے تعاون سے لکھی جانے والی سٹوری کی نیو یارک تائمز میں اشاعت کے بعد ملک کے ان تین بڑے چینلز ایکسپریس، دنیا اور جیو ٹی وی نے ایگزیکٹ کے خلاف ایک طوفان برپا کر دیا ۔ پہلے ایکسپریس پر اور پھر جیو ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمان اور دنیا ٹی وی کے مالک میا ں عامر محمود نے بھی ایگزیکٹ سکینڈل میں اپنا بھر پور حصہ دالا۔ جیو ٹی وی اور بول گروپ کی دشمنی اور عدالتوں میں جاری جنگ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم اس جنگ میں دنیا ٹی وی کی شمولیت نے بہت سے لوگوں کو حیران ضرور کیا ہے ۔
جیو، ایکسپریس اور دنیا ٹی وی پر آدھے آدھے گھنٹے کے نیوز بلیٹن نشر کئے گئے اور ایسا میڈیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ۔یہ تینوں ٹی وی چینلز اپنی ذاتی لڑائی میں اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے ہر قسم کی اخلاقیات کو پس پشت دال دیا ۔
ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ ان تینوں گروپوں نے حکومت پر دبائو ڈلوا کر ایف آئی اے کے ذریعے یہ ساری کارروائی کروائی اور کھیل میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے میڈیا سیل نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔یہ میڈیا سیل آج کل وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب کی صابزادی محترمہ مریم نواز کی ہدایت پر چلتا ہے۔
فیکٹ کے سامنے یہ حقیقت بھی آئی کہ ایگزیکٹ کی انتظامیہ نے کچھ عرصہ قبل ایکسپریس میڈیا گروپ کے مالک سلطان علی لاکھانی کے خلاف ایک کیس درج کروایا تھا جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تین لاگوں کو ایگزیکٹ میں اِن کیا اور پھر ان کے ذریعے ایگزیکٹ کا ڈیٹا چوری کروایا ۔ اس حساس ڈیٹا کی چوری سے ایگزیکٹ کو نقصان ہوا اور تحقیق کے بعد ان تینوں ملازموں نے پولیس کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ وہ ایسا سلطان علی لاکھانی کے ایماء پر یہ سب کچھ کر رہے تھے۔پولیس نے اس انکشاف کے بعد سلطان علی لاکھانی کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔(اس سلسلے میں دستاویزات دیکھیں )
interim-sheet-page-01ایگزیکٹ کے ان سابقہ ملازمین نے جب کمپنی چھوڑی تو انہوں نے ایگزیکٹ کی انتظامیہ کو کہا تھا کہ وہ بیرون ملک جا رہے ہیں اور آئندہ کسی بھی آئی ٹی کمپنی میں ملازمت نہیں کریں گے تاہم جب تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ مذکورہ ملازمین نہ صرف کراچی میں ہی ہیں بلکہ ایک کمپنی بنا کر ایگزیکٹ کے چوری شدہ سافٹ ویئر فروخت کر رہے ہیں ۔جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ سلطان علی لاکھانی کو اس کی کیا ضرورت پڑی کہ وہ ایگزیکٹ کا ڈیٹا چوری کروائیں ؟ اس کا جواب سیدھا سا ہے کہ سلطان لاکھانی کا ملکیتی گروپ بھی پاکستان کی ایک بڑی آئی ٹی کمپنی سائیبر نیٹ کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ سلطان علی لاکھانی کے اپنی کمپنی کے حوالے سے اپنے مفادات ہیں ۔
اس تمام صورتحال کے بعد اب بول ٹی وی یکم رمضان سے اپنی نشریات کےآغاز کا اعلان کر چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی ٹی وی چینلز بول کے خلاف اپنی مہم جاری رکھتے ہیں یا ایگزیکٹ کے خلاف تحقیقات کے سامنے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔یہ بات طے ہے کہ ایگزیکٹ سکینڈل میں میڈیا بے نقاب ہو چکا ہے۔یہ بات بھی زبان زد زبان عام ہے کہ ملک کے تمام بڑے چینلز بشمول ایکسپریس ، دنیا اور جیو ٹی وی کے مالکان بول کے آنے سے خوف زدہ ہیں کیونکہ وہ اپنے صحافیوں کو ایسی سہولیات نہیں دے سکتیں ۔ جس طرح کی بول اپنے صحافیوں کو دے رہا ہے۔
اب اصل کھیل بول ٹی وی کے لانچ ہونے کے بعد شروع ہو گا اور پھر پتہ چلے گا کہ میڈیا سیٹھوں کا اگلا منصوبہ کیاہے؟ اور سکرپٹ کے اگلے مرحلے پر عمل کب ہو گا؟
رپورٹ: مقبول ارشد
نوٹ :ایکسپریس ، جیو اور دنیا ٹی وی کے مالکان سلطان لاکھانی ، میر شکیل الرحمان اور میاں عامر محمود اس سٹوری کے حوالے سے اپنا موقف دینا چاہیں تو فیکٹ کے صفحات حاضر ہیں۔

 

file-page1file-page2

Displaying 25 Comments
Have Your Say
  1. Roopesh says:

    Interesting. You are doing exactly the same thing that you are accusing others of.

  2. Naveed Aslam says:

    news on business news kcci stock exchange kati and fpcci others business related orginazation

  3. akbar says:

    very interesting…expose my of those faces who are enemy of independent media like Bol
    M. Akbar London

  4. We are victims of FIA Media & Scandals, I remember a 3rd day of March, 2003, when FIA raided to my office, carry away all my record, cruised each and every materiel proof, poked story made that a unknown application was received to FIA, about 5 Billions foreign funding was stopped, rgere was a time Pakistan was in crises result of which millions of enemies came to FIA to file complaint, nothing proofed and allegation made null & void, the same story repeated here with AXACT, its Media trial to scandalize the things to make the BOOL zero and stopped to come in picture before inauguration of the BOOL, its massage to Mr. Shoaib Sheikh not to pass any statement before media or FIA, just take the Bail before arrest, put the legal counsels and make defense of the trials, one thing more start BOOL by any mean, by any cost, by hook or by crook, the conspiracy is to stop launching of BOOL, and the conspirators are the GOD Fathers of yellow gernalizm and the bloody black mailers.
    Anees Ahmad Khan
    Chairman
    AAKYZAI Group of Companies

  5. We are victims of F.I.A Media & Scandals, I remember a 3rd day of March, 2003, when F.I.A raided to my office, carry away all my record, cruised each and every materiel proof, poked story made that a unknown application was received to F.I.A, about 5 Billions foreign funding was stopped, there was a time Pakistan was in crises result of which millions of enemies came to F.I.A to file complaint, nothing proofed and allegation made null & void, the same story repeated here with AXACT, its Media trial to scandalize the things to make the BOOL zero and stopped to come in picture before inauguration of the BOOL, its massage to Mr. Shoaib Sheikh not to pass any statement before media or FIA, just take the Bail before arrest, put the legal counsels and make defense of the trials, one thing more start BOOL by any mean, by any cost, by hook or by crook, the conspiracy is to stop launching of BOOL, and the conspirators are the GOD Fathers of yellow gernalizm and the bloody black mailers.
    Anees Ahmad Khan
    Chairman
    AAKYZAI Group of Companies

  6. Haseeb says:

    Dears,

    My question is from where is heavy investment is coming for BOL?
    2nd can a company make such money for selling a software for edicational purpose.
    If yes, what is list of the clients they have which must have some legal contract with axact.
    3rd. If this is axact’s main product then why is not mentioned on their website or do they have separate prodcut site?

  7. Usman Mirza says:

    Bol should be launched on requisite time.

  8. M Asim Maken says:

    Good Work

  9. Genius says:

    I am reading this over interner since 2007 tht Axact group is involved in such businesses.. they started with porn websites then below standard thesis and report writing for university students and then university degrees … nothing is new its just that NY times noticed now … when base of group is corrupt thn bol will also be the beginning of new corruption … I have traced thr websites n specifically university which awarded degree to a dog n also bolnetwork all belongs to same server same destination

  10. San says:

    agree with genius’s comments above

  11. I want to publish this matter in your favour pleas provide me total materil Regard. Malik Farakh Abbas 03334883972,03204120005

  12. ahmar says:

    very interesting.
    ahmar islamabad

  13. Hira says:

    Such high level of insecurity by Media Channels. Feeling pity for them. Cant they compete? All this Media Mafia already lost the battle by showing their insecurity.

  14. i think it is create to propaganda from other channel.and the discuss are as above is discusting.

  15. azhar says:

    admin… you must be careful from these media owner… 🙂

  16. Zafar Abbas Bhatti says:

    End of the day
    BL KA HI BILBALA HO GA
    We condemn the yellow journalism and
    monopoly

  17. Bol ko ayan chai or sub ke bolti band krni chia..

  18. akbar says:

    great story of fact.
    akbar holand

  19. Raymondtex says:

    проволока латунная 5 – лента латунная л63 купить, пруток алюминиевый.

  20. Geraldfep says:

    Cabin Fever regular video slots BlackJack Ballroom – Newbie registration steps at the online casino

  21. GeorgeFes says:

    Online Casino On Net – BlackJack Ballroom, Casino On Net.

  22. GordonHibia says:

    dj stocks – Stock Index Betting Articles, Run Bets.

  23. KennethInfal says:

    кредит маркет кредит наличными – банки екатеринбурга потребительские кредиты без справок, почта россии кредит наличными.

Leave a comment